نیا سامان یا پرانا سامان
ہرشخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر دلکش اور دیدہ زیب
سامان سے آراستہ ہو اوراگر نیا سامان خریدنا ممکن نہ ہو تو لوگ پرانا سامان خرید
کر ہی گھر کو سجا لیتے ہیں... لیکن بڑھتی مہنگائی سے یہ خواہش حسرت میں بدلنے لگی ہے
گھر کی سجاوٹ میں فرنیچر کا اہم کرادار ہوتا ہے اور ہر ایک
کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر ایسا ہو کہ دیکھنے والے کی نظروں کو بھائے لیکن روز
بہ روز بڑھتی مہنگائی نے لوگوں کو اس قدر
مجبور کر دیا ہے کہ نیا فرنیچرتو ان کی دسترس سے دور ہوا ہی تھا اب پرانا بھی خریدنا خواب بنتا جا رہا ہے ۔
دکانداروں کا کہنا
ہے کہ نیا فرنیچر تو صرف خاص موقع پر ہی فروخت ہوتا ہے لیکن مہنگائی نے تو پرانے
فرنیچر کی سیل میں بھی نمایاں کمی کردی ہے ۔۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے گھروں کی سجاوٹ کو ناممکن نہیں تو
انتہائی مشکل ضرور بنا دیا ہے اور لوگوں کے لئے گھروں کو سجانا خواب بنتا جا رہا
ہے ۔۔
فرنیچر نیا ہو یا پرانا بڑھتی ہوئے مہنگائی اسے عام آدمی کے دسترس سے دور کرتی جا رہی ہے۔

Comments
Post a Comment