Posts

Showing posts from August, 2018
Image
کن لوگوں کو جنريٹر نہيں يوپي ايس بہتر ہوتا ہے اورکن لوگوں  کے ليے يو پي ايس ٹھيک نہيں ہوتا  آج کل پاکستان میں لوڈشیڈنگ نے معمولاتِ زندگی کو بے حد متاثر کیا ہوا ہے، وہیں بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کی تجارت کرنے والے اِس صورتحال کا خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے میں مصروف ہیں۔ یو پی ایس بجلی پیدا کرنے کے ان ہی ذریعوں میں سے ایک بہترين ذرائع ہے۔ یو پی ایس 2 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک حصہ سرکٹ، ٹرانفارمر، چارجر اور پاور ٹرانسسٹرز پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ دوسرا حصہ بیٹری بنک کہلاتا ہے، عام طور پر جو یوپی ایس گھروں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اُن میں ایک یا دو بیٹریز لگتی ہیں۔ ویسے تو یوپی ایس بہت سی اقسام کے ہوتے ہیں لیکن جو یوپی ایس گھروں کے لئے تیار کئے جاتے ہیں اُن کو حرف عام میں انورٹر Inverter کہا جاتا ہے، یہ offline یوپی ایس ہوتے ہیں۔ جس وقت مین لائن سے بجلی آرہی ہوتی ہے تو یو پی ایس کو on رکھنا ضروری اِس لئے ہوتا ہے تاکہ یوپی ایس سے جڑی بیٹری کو یوپی ایس چارج کر سکے، اور جن اشیاء کو ہم نے یوپی ایس کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے کہ جن کی لائٹ جانے کی صورت میں یوپی ایس نے بجلی بحا...
Image
گوشت کھانے میں آج کل کے لوگوں نے جانوروں کو پیچھے چھوڑ دیا عید پر گوشت کھائیں ، مگر احتیاط سے  اکثر لوگ بکرا عید پر ضرورت سے زیادہ کھالیتے ہیں، بسیار خوری صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے ۔ اعصابی بیماریاں، دماغی کمزوری، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور پیٹ کے متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ ، جگر، انتڑیاں، گردوں، پٹھوں اور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفا اور جو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن خوب کھا پی کر ضائع کربیٹھتے ہیں۔ اس بات کااظہار معروف فزیشن وسرجن میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر بشیر حسن بخاری نے نوائے وقت کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بکراعید کے موقع پر عوام کو کھانے پینے میں خصوصی احتیاط کرنی چاہئے۔ عید کے دنوں میں مرغن غذائیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ غذائیںمثلاً روسٹ، بروسٹ، تکے کباب، کڑاہی گوشت ، قورمہ، بریانی، حلورہ پوری ، کیک، مٹھائیاں وغیرہ اور کولا وغیرہ کا بے انتہا استعمال کرکے لوگ بیمار ہوجاتے ہیں۔ غذائی بے اعتدال کے باعث عید کے دنوں میں ڈائریا، اسہال اور نظام ہضم کی خرابی کے مریضوں میں انتہائ...
Image
پہنو جگ بھاتا اور کھاؤ من بھاتا ہر خطے اور وہاں بسنے والوں کی الگ الگ خصوصی ات ہوتی ہیں۔ کوئی چائے کا شوقین ہے تو کسی کو انڈے زیادہ پسند ہیں ۔ آئس کریم کسی کی کمزوری ہے تو کوئی چاکلیٹ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔ لوگوں کے اور کیا شوق ہیں ایک ضرب المثل ہے کہ پہنو جگ بھاتا اور کھاؤ من بھاتا ۔۔۔ ایسے ہی دنیا میں لوگ کیا کھاتے ، پیتے اور پہنتے ہیں ۔۔ تو سب سے پہلے چلتے ہیں ترکی ،، جہاں دنیا میں سے زیادہ چائے پی جاتی ہے۔۔۔ کافی کے سب سے زیادہ شوقین فن لینڈ میں پائے جاتے ہیں ۔۔۔ پھولوں اور سبزیوں کے مشروبات سب سے زیادہ کینیڈا کے لوگ پیتے ہیں۔۔ چپس اور نمکو کھانے میں سب سے آگے ہیں آئرلینڈ کے شہری ۔۔۔ جبکہ بسکٹ کے   سب زیادہ شوقین نیدرلینڈ میں پائے جاتے ہیں۔۔۔ سب سے زیادہ فاسٹ فوڈ امریکی کھاتے ہیں ۔۔۔ گوشت خوری میں نمبرون ہیں نورو کے باسی ،،، سب سے زیادہ مچھلی پرتگال میں کھائی جاتی ہے جبکہ سبزی خور ممالک میں یونان پہلے نمبر پر ہے ۔۔۔ چین میں سب سے زیادہ انڈے کھانے والے بستے ہیں تو آسڑیلیا دنیا میں سب سے زیادہ آئس کھانے والا ملک ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ چاکیٹ برطانیہ میں کھائی جا...
Image
شہزادے کی جھگی وطن عزیز میں ایسے افراد کی کمی نہیں ۔۔ جو انتہائی کم معاوضے کے باوجود ۔۔ آباؤ اجداد کے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔۔ ایسے ہی ایک خاندان   سے ملتے ہیں يہ کراچی کے علاقے جٹ لائن میں فٹ پاتھ   پر قائم   جھگی میں بسنے والے رفاقت   کا خاندان ہے جو اس مہنگائی کے دور میں   اپنے   سات بچوں   کا پیٹ پالنے کے لیے مٹی کے چھوٹے چھوٹے کھلونے بناتے ہیں   جو کہ پانچ روپے سےدس روپے کی قیمت میں   فروخت ہوتے ہیں پورے دن   کھلونے فرورخت کرنے کے بعد ڈیڑھ دوسو روپے کمانے والے رفاقت   کا کہنا ہے   کہ جو کماتے ہیں وہ تو کھالیتے ہیں لیکن جب بارش برستی ہے توبچوں کو لے کر چھپروں کے   نیچے جانا پڑھتا ہے۔   اپنے باپ داد کے اس ہنر سے منسلک یہ رفاقت کی بیوی ہے جو شوہر کے شانہ بہ شانہ کام کرتی ہے اور سارا دن یہ مٹی کے کھلونے بناتی ہے جس کو اسکا شوہر اور بیٹا سارا دن   گلی گلی گھوم کےفروخت کرتے ہیں   چند لکڑیوں اور کپڑوں سے بنے ان گھروں میں بسنے والے ستر پوشی   کے لیےدو کپڑے اورایک وقت کی روٹی   کے حصو...
Image
آنکھوں کا سنگھار انسانی شخصیت میں آنکھوں کی خاص اہمیت ہوتی ہے اسی لئے شاعر اور نغمہ نگار ہمیشہ آنکھوں کے گن گاتے ہیں، فلمی دنیا میں اکثر آنکھوں کی خوبصورتی کے چرچے رہتے ہیں، کہتےہیں کہ آنکھیں دل کی زبان بولتی ہیں،کوئی انہیں جھیل جیسا گہراقراردیتاہےتوکوئی ان کی دلکشی پرمرمٹنے کےلئےتیاررہتاہے۔آنکھوں میں کاجل ہوتومعصومیت اورمسکاراہوتوشوخی،نینوں کی توہراداہی نرالی ہے۔ آنکھیں دل کاچین لوٹتی ہیں اورمست نظروں سےدیوانہ بھی بناتی ہیں،قاتل نگاہیں ہوش اڑاتی ہیں اوریہی اکھیاں کبھی کبھاردل پرگولیاں بھی چلاتی ہیں۔ آنکھیں جھک جائیں تو حیا اوراٹھ جائیں تو ادا،بہت سے لوگ انہی کے سہارے تو جی رہے ہیں۔ آنکھوں کا نشیلا پن دلوں پر بجلیاں گراتا ہے تو کبھی کبھاریہی نیناں فریب بھی دے جاتے ہیں۔ گانا۔ نینوں کی مت سنیو، نینوں کی مت مانیو، نینا ٹھگ لیں گے۔   کبھی کبھی اکھیوں سے سے اتنی باتیں کی جاتی ہیں کہ بات بن ہی جاتی ہے۔۔   اکھیوں ہی اکھیوں میں تیری میری بات بنی اور کبھی اکھیوں کو اکھیوں کے آس پاس رہنے کا بھی اظہار کیا جاتاہے ۔۔ اکھیوں کو رہنے دے اکھیوں کے آس پاس  ...
Image
ہنر مندوں کے فن پارے پاکستان تقریباً ہر شبعے میں ہنرمند افراد کی دولت سے مال مال ہے۔۔ ان ہُنرمندوں کے بنائے ہوئے فن پارے اپنی مثال آپ ہیں۔  یہ کراچی کا دل صدر ہے ۔۔۔ جہاں ساٹھ سال قبل اینٹیک اشیا کی یہ دکان حاجی مشاق نے کھولی تھی ۔۔۔ اب ان کے بیٹے والد کے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ مختلف دھاتوں کو بڑي مہارت سے مطلوبہ شکل میں ڈھال کر اسے مختلف مراحل سے گزار جاتا ہے ۔۔ جس کے بعد  اس پر نقشوں نگار اور گل کاری کی جاتی ہے ۔۔۔ اس نایاب فن کے کاریگر کہتے ہیں کہ یہ خاصا طويل اور صبر آزما کام ہے۔   آنکھوں کو خیرہ کرنے والے بےمثال فن پاروں کے تخلق کار ختم ہوتے اس ہنر کی جانب حکومت کی عدم توجہی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔  دھاتوں کو خوبصورت نقش و نگار دینے والے یہ فنکار فکرمند ہیں کہ اب مشینوں کا دور دورہ ہے۔ ختم ہوتے اس  صدیوں پرانے اور محنت طلب ہنر کے کاریگر بھی نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔  
Image
  اسد امانت علی خان   کلاسیکی موسیقی کی پہچان گلوکار اسد امانت علی خان کو اپنے مداحوں سے بچھڑے تین برس بیت گئے لیکن ان کی گائی ہوئی غزلیں اور گیت آج بھی سننے والوں کو سر دُھننے پر مجبور کر دیتی ہیں۔۔  پٹیالہ گھرانے کے چشم وچراغ اسد امانت علی خان ستمبر 1952ء میں پیدا ہوئے ۔۔۔ دس برس کی عمر میں گائیگی کا آغاز کیا ۔ اور بہت جلد شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے ۔۔۔  اسد امانت یوں تو کلاسیکی گائیک تھے لیکن انہوں نے غزل گائیکی کو بھی ایک نیا انداز دیا ۔۔۔ اور ہلکی پھلکی غزلوں میں کلاسیکی رنگ ڈال کر غزل گائیکی کو منفرد مقام عطا دیا۔۔۔  انہوں نے متعدد فلموں کے لئے بھی گیت گائے۔۔ اسد امانت علی خان کو سوزوسلام کہنے میں بھی مہارت حاصل تھی۔۔۔ انہیں اپنے والد کی طرح پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔۔۔ گائیگی کی دنیا کا یہ بے تاج باشادہ آٹھ اپریل دو ہزار سات کو اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو سوگورا چھوڑ کرکے خاک میں پہناں ہوگیا۔ لیکن ان کی آواز کا سحر آج بھی قائم ہے۔۔۔
Image
خواتین کے خواب غریب جفاکش خواتین مستقبل کے خوابوں کی تعبیر کے لئے کیا کیا جتن کرتی ہیں ۔ تیزی سے ہاتھ چلاتی اور برتن صاف کرنے کے جونے بنانے والی یہ پینتالیس سالہ کوثر ہے ۔۔ جو بیس سال سے اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے شوہر کے شانہ بشانہ ہے ۔۔۔ یہی نہیں ،، اس کوشش میں ساس اور جیھٹانی بھی اس کی بھرپور مدد کرتی ہیں ۔۔۔ مہنگائی کے اس دور میں کرائے کے گھر میں رہنے والی کوثر نے گھر میں سبزی کی دکان بھی کھول رکھی ہے ۔۔ کوثر خود تو پڑھی لکھی نہیں لیکن آنکھوں میں اپنے بچوں کے تعلیم یافتہ کل کے خواب سجا رکھے ہیں۔۔   کوثر کی بڑی بیٹی بھی ماں کا بوجھ ہلکا کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔۔ اور ٹیوشن پڑھا کر اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھاتی ہے ۔۔۔ وہ بھی والدین کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو تعبیر دینے کی خواہش مند ہے۔۔۔   ان خواتین کی محنت اور لگن دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر ہمت ، عزم اور کچھ کرنے کا حوصلہ ہو تو کوئی بھی کام مشکل نہیں۔۔۔
Image
جفاکش خواتین کا عزم مہنگائي سے تو پورا ملک ہي پريشان ہے ليکن  کچھ ايسي  جفاکش خواتين بھي ہيں جو بڑے عزم کے ساتھ مہنگائي کا مقابلہ کررہي ہيں۔۔  يہ جفاکش خواتین مستقبل کے خوابوں کی تعبیر کے لئے کیا کیا جتن کرتی   تیزی سے ہاتھ چلاتی اور برتن صاف کرنے کے جونے بنانے والی یہ پینتالیس سالہ کوثر ہے ۔۔ جو بیس سال سے اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے شوہر کے شانہ بشانہ ہے ۔۔۔ یہی نہیں ،، اس کوشش میں ساس اور جیھٹانی بھی اس کی بھرپور مدد کرتی ہیں ۔۔۔ مہنگائی کے اس دور میں کرائے کے گھر میں رہنے والی کوثر نے گھر میں سبزی کی دکان بھی کھول رکھی ہے ۔۔ کوثر خود تو پڑھی لکھی نہیں لیکن آنکھوں میں اپنے بچوں کے تعلیم یافتہ کل کے خواب سجا رکھے ہیں۔۔  کوثر کی بڑی بیٹی بھی ماں کا بوجھ ہلکا کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔۔ اور ٹیوشن پڑھا کر اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھاتی ہے ۔۔۔ وہ بھی والدین کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو تعبیر دینے کی خواہش مند ہے۔۔۔  ان خواتین کی محنت اور لگن دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر ہمت ، عزم اور کچھ کرنے کا حوصلہ ہو تو کوئی  بھی کام مشکل نہیں۔۔۔ ...
مہنگائي سے تو پورا ملک ہي پريشان ہے ليکن  کچھ ايسي   جفاکش خواتين بھي ہيں جو بڑے عزم کے ساتھ مہنگائي کا مقابلہ کررہي ہيں۔۔  يہ جفاکش خواتین مستقبل کے خوابوں کی تعبیر کے لئے کیا کیا جتن کرتی ہیں ۔ تیزی سے ہاتھ چلاتی اور برتن صاف کرنے کے جونے  والی یہ پینتالیس سالہ کوثر ہے ۔۔ جو بیس سال سے اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے لیے شوہر کے شانہ بشانہ ہے ۔۔۔ یہی نہیں ،، اس کوشش میں ساس اور جیھٹانی بھی اس کی بھرپور مدد کرتی ہیں ۔۔۔ مہنگائی کے اس دور میں کرائے کے گھر میں رہنے والی کوثر نے گھر میں سبزی کی دکان بھی کھول رکھی ہے ۔۔ کوثر خود تو پڑھی لکھی نہیں لیکن آنکھوں میں اپنے بچوں کے تعلیم یافتہ کل کے خواب سجا رکھے ہیں۔۔ کوثر کی بڑی بیٹی بھی ماں کا بوجھ ہلکا کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔۔ اور ٹیوشن پڑھا کر اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھاتی ہے ۔۔۔ وہ بھی والدین کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو تعبیر دینے کی خواہش مند ہے۔۔۔  ان خواتین کی محنت اور لگن دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر ہمت ، عزم اور کچھ کرنے کا حوصلہ ہو تو کوئی بھی کام مشکل نہیں۔۔۔