کن لوگوں کو جنريٹر نہيں يوپي ايس بہتر ہوتا ہے اورکن لوگوں کے ليے يو پي ايس ٹھيک نہيں ہوتا
آج کل پاکستان میں لوڈشیڈنگ نے معمولاتِ زندگی
کو بے حد متاثر کیا ہوا ہے، وہیں بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کی تجارت کرنے والے اِس
صورتحال کا خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے میں مصروف ہیں۔ یو پی ایس بجلی پیدا کرنے کے
ان ہی ذریعوں میں سے ایک بہترين ذرائع ہے۔
یو پی ایس 2 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک حصہ
سرکٹ، ٹرانفارمر، چارجر اور پاور ٹرانسسٹرز پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ دوسرا حصہ بیٹری
بنک کہلاتا ہے، عام طور پر جو یوپی ایس گھروں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اُن میں ایک
یا دو بیٹریز لگتی ہیں۔
ویسے تو یوپی ایس بہت سی اقسام کے ہوتے ہیں لیکن
جو یوپی ایس گھروں کے لئے تیار کئے جاتے ہیں اُن کو حرف عام میں انورٹر Inverter
کہا جاتا ہے، یہ offline یوپی ایس ہوتے ہیں۔
جس وقت مین لائن سے بجلی آرہی ہوتی ہے تو یو پی
ایس کو on
رکھنا ضروری اِس لئے ہوتا ہے تاکہ یوپی ایس سے جڑی بیٹری کو یوپی ایس چارج کر سکے،
اور جن اشیاء کو ہم نے یوپی ایس کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے کہ جن کی لائٹ جانے کی
صورت میں یوپی ایس نے بجلی بحال رکھنا ہے وہ بھی آن رہ سکیں۔
ماہرین کے مطابق جب بجلی جاتی ہے اور یو پی ایس
سے بجلی کے آلات چلائے جاتے ہیں تو یو پی ایس کی بیٹری کو چارج کرنے کے لئے دوبارہ
تقریباً ۸ گھنٹہ درکار ہوتے ہیں، لیکن چونکہ بجلی کے آنے
جانے کا کوئی وقت نہیں اس لئے یو پی ایس کی بیٹری عام طور پر جلد ختم ہوجاتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یو پی ایس کی بیٹری کو زیادہ سے زیادہ ۵۰
فیصد تک استعمال کرنا چاہئے، کیونکہ اس سے زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں بیٹری
کے جلد خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی لئے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر یو پی
ایس کی بیٹری کو چارج کرنے کی غرض سے شمسی پینل کو استعمال میں لایا جائے تو جہاں
آپ کو بجلی کی کمی کا احساس نہیں ہوگا وہیں بیٹری خراب ہونے کے مواقع بھی کم ہوجائیں
گے۔
ہمارے یہاں گھروں میں عام طور پر ۱۰۰۰
وی اے کا یو پی ایس لگایا جاتا ہے جس کے ساتھ ۲۰۰
ایمپیئر کی بیٹری لگائی جاتی ہے۔ اس یو پی ایس سے ۲
پنکھے اور ۲ انرجی سیور جلائے جاتے ہیں۔ اس میں اگر ۳۰۰
واٹ کے شمسی پینل چارج کنٹرولر کے ذریعہ بیٹری کے ساتھ جوڑ دئیے جائیں تو آپ کی بیٹری
بغیر کسی تعطل کے چارج ہوتی رہے گی اور بجلی کی کمی بیشی سے بیٹری پر کوئی منفی
اثر بھی نہیں پڑے گا۔ اس عمل سے دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بیٹری کی عمر بھی بڑھ
جائے گی، کیونکہ بیٹری وقت پر اور پوری چارج ہونے کی وجہ سے خطرے کے نشان سے نیچے
نہیں جائے گی۔ بیٹری کے ساتھ لگانے کیلئے استعمال ہونے والے ان شمسی پینلز کی لاگت
تقریباً ۴۰ سے ۴۵ ہزار تک
بنتی ہے جو آئندہ ۲۵ سال تک کارآمد ہونگے اور اس عرصہ کے دوران شمسی
پینلز میں کسی قسم کی کوئی بھی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ اس رقم کو اگر ۲۵
سال پر تقسیم کیا جائے تو سالانہ لاگت تقریباً ۱۸۰۰
روپے بنتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو کم سے کم بجلی استعمال والے گھروں میں بھی جو
بجلی کا سالانہ بل آتا ہے یہ لاگت اس سے انتہائی کم ہے۔
سلام آباد:گرمیوں کے دنوں میں آئے دن یو پی ایس
کی بیٹری جواب دے جاتی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ دوکاندار پرانی بیٹری بھی
کچھ پیسوں کے عوض آپ سے خرید لیتے ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ بیٹری تو خراب ہو چکی
ہوتی ہے پھر یہ خراب بیٹری ان کے کس کام کی؟یہی اصل نقطہ ہے جو آپ کو سمجھایا
جانا مقصود ہے تاکہ آپ مالی نقصان سے بچ سکیں۔
دوکاندار جو خراب بیٹری آپ سے خریدتے ہیں وہی
کچھ دنوں بعد نئی بیٹری کی شکل میں بازار میں موجود ہوتی ہے۔ اصل میں بیٹری کبھی
کمزور نہیں ہوتی، اس کا کوئی ایک سیل کمزور ہو جاتا ہے جو تقریباََ پندرہ سو روپے
میں مل جاتا ہے۔ دکاندار اس کا کمزور سیل تبدیل کر کے نیا پلاسٹک کور لگاتے ہیں
اور پھر سے کسی نئے گاہک کو بیچ دیتے ہیں۔ اس کام کیلئے وہ درج ذیل طریقہ اختیار
کرتے ہوئے مختلف چیزیں اس میں استعمال کرتے ہیں، ایپسم سالٹ ، ڈسٹلڈ واٹر۔
ایپسم سالٹ کسی بھی میڈیاکل سٹور سے آسانی کے
ساتھ مل جاتا ہے ، میڈیاکل سٹور والے اسے میگنیشئم سلفیٹ کے نام سے بھی جانتے ہیں
اور ڈسٹلڈ واٹر کسی بھی بیٹری والی شاپ سے مل جاتا ہے۔ دکاندار سب سے پہلے بیٹری
کے باہر والا کور تبدیل کرتے ہیں، پھر ایپسم سالٹ (میگنیشئم سلفیٹ)اور ڈسٹلڈ
واٹر(تیزاب)کو برابر مقدار میں حل کر لیتے ہیں۔ یعنی دو کپ میگنیشئم سلفیٹ کے اور
دو کپ ڈسٹلڈ واٹر یعنی تیزاب کے کسی برتن میں مکس کر کے تھوڑا گرم کر لیتے ہیں
تاکہ یہ حل ہو جائے اور پھر اس کو ٹھنڈا ہونے دیتے ہیں اس کے بعد یو پی ایس کو
مکمل بند کر کے اور بیٹری کی تاریں یو پی ایس سے الگ کر کے بیٹری کے تمام ڈھکن
کھول دیتے ہیں اور اگر اس میں پہلے سے پانی پورا ہے تو اتنا پانی بیٹری میں سے
نکال دیتے ہیں جتنا انہوں نے محلول بنایا ہوتا ہے۔
اب بیٹری میں مکس کیا ہوا محلول تمام سیلز میں
برابر مقدار میں ڈالتے ہیں اور ڈھکن فوری طور پر بند کر دیتے ہیں پھر فوری طور پر
بیٹری کو یو پی ایس کے ساتھ اٹیچ کر کے چارجنگ پر لگا دیتے ہیں اس کیلئے دکاندار
سات سے دس دن انتظار کرتے ہیں۔ایک ہفتے کے بعد بیٹری کی پرفارمنس بالکل پہلے جیسی
ہوجاتی ہے اور آپ سے خریدی ہوئی اڑھائی تین ہزار کی بیٹری پھرسے آپ کو دس پندرہ
ہزار کی بیچ دی جاتی ہے۔ اگر آپ اس فراڈ سے بچنا چاہتے ہیں تو دکاندار سے بیٹری
کا سیل چیک کروائیں اور اصرار کریں کہ وہ صرف خراب سیل ہی تبدیل کرے
یو پی ایس ایک ایسی مشین یا آلہ ہے ۔ جب بجلی کی سپلائی بحال ہوتو بیٹری کو چارج
کرتا ہے یعنی واپڈا کی سپلائ250 وولٹ اے سی
کرنٹ کو 12 وولٹ ڈ یسی کرنٹ میں تبدیل
کرکے بیٹری میں جمع کرتا ہے اور جب بجلی
سپلائی نہیں ہورہی ہوتی تو اس وقت یو پی ایس بیٹری میں جمع شدہ 12 وولٹ ڈی سی کرنٹ کو 250 وولٹ اے سی کرنٹ میں
تبدیل کر کے بجلی کی سپلائی بحال کر دیتا ہے۔
یہ ساراکام خود بخود Automatic طریقے سے ہوتا ہے گھر والوں کو اس کا احساس
بہت کم ہوتا ہے کہ واپڈا کی بجلی کب گئی اور کب بحال ہوئی۔
یوپی ایس کی اہمیت
پچھلے تقریباً 10 سالوں سے جب سے پاکستان میں
بڑے پیمانے سے لوڈشیڈ نگ کی جا رہی ہے، یو پی ایس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے عام لوگ
بھی یو پی ایس کو ایک نعمت سمجھتے ہیں ۔ آج تقریباً ہر صا حبِ حیثیت شخص کے گھر میں
یو پی ایس موجود ہے۔ کیونکہ لوگ بجلی کی سہولتوں کے اسقدر عادی ہوگئے ہیں کہ بجلی کے
بغیر نظامِ ذندگی رک ساجاتا ہے ۔
یوپی ایس کا انتخاب
1 ۔ یو پی ایس کا انتخاب مندرجہ ذیل پوائنٹ کو
مد نظر رکھ کریں۔
یو پی ایس پر آپ نے کتنی چیزیں چلانی ہیں اس کا
تعلق یو پی ایس کے واٹ Watts سے ہوتا ہے۔اور کتنی دیر تک چلانی ہیں اسکا
تعلق بیٹری کی کپیسٹی Capacity سے
ہوتا ہے۔
2 ۔ لہٰذا سب سے پہلے آپ یہ حساب لگائیں کہ آپ
نے یو پی ایس پر کتنی چیزیں چلانی ہیں۔ آسانی کیلئے کچھ عام گھریو اشیائ کے
واٹ Watts نیچے درج ہیں۔
3 ۔ سیلنگ فین یعنی چھت والا پنکھا اچھی کمپنی
کا75- 80 واٹ عام سیلنگ فین 100 واٹ۔
پیڈسٹل فین ۔یعنی سٹینڈ والا یا زمین والا
پنکھا۔ اچھی کمپنی کا 135-150 واٹ عام
کمپنی کا 160-170 واٹ
انرجی سیور درمیانے سائزکا 25 واٹ ۔
4 ۔
500 واٹ کے یوپی ایس پر زیادہ سے زیادہ
400 واٹ کا لوڈ ڈالا جا سکتا ہے۔ 700 واٹ واے پر 550 واٹ اور 1000 واٹ والے
پر 850 واٹ ۔
5 ۔
500 واٹ والے یوپی ایس پر ہم تین
چھت والے پنکھے اور تین انرجی سیور آسانی سے چلا سکتے ہیں۔
یوپی ایس ہمیشہ اچھی کمپنی کا بنا ہوا استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ غیر معیاری یوپی
ایس ایک تو بجلی ضائع کرتے ہیں اور دوسرا انکی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوتی۔
یو پی ایس کی قسمیں
عام طور پر دو قسم کے یو پی ایس استعمال ہورہے
ہیں اور دونوں ہی کامیاب ہیں اگر وہ کسی معیاری کمپنی کے تیار شدہ
ہوں ۔
1۔ دیسی یو پی ایس ۔ اس قسم کے یوپی ایس میں ایک
بڑا سا ٹرانسفارمر ہوتا ہے جسکی وجہ سے اس
کا وزن اور سائز
زیادہ ہوتا ہے۔ یہ یوپی ایس اب ہر شہر میں اکثر
الیکٹریشن حضرات تیار کرکے فروخت کر رہے ہیں کیونکہ جن پرزوں کو جوڑ کر یہ یو پی ایس
تیار کیا جاتا ہے وہ بازار میں عام دستیاب ہیں۔ عام ان پڑھ کاریگروں کے تیار کرنے
کی وجہ سے ان کا معیار اچھا نہیں ہوتا اسلیئے صارف کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا
ہے۔
اچھی کمپنی کے تیارکردہ دیسی ٹائپ کے یو پی ایس
بھی بہت کامیا ب ہیں جن میں استعمال ہونے والا ٹرانسفارمر کاپر وائر سے تیار کیا
جاتا ہے اور ٹرانسفارمر کی کور بھی معیاری
ہوتی ہے۔ اور دوسری چیزیں کارڈ اور ماڈیول وغیرہ معیاری استعمال ہوتے ہیں۔
2 ۔ ولائتی ٹائپ یوپی ایس ۔
یہ یوپی ایس وزن میں ہلکے اور سائز مین دیسی کی
نسبت
کافی چھوٹے ہوتے ہین۔ ان کا استعمال بھی کافی
فروغ پا رہا ہے ۔ اس قسم کے یوپی ایس بھی کامیاب ہیں اگر کسی اچھی کمپنی کے تیار
کردہ ہوں۔ ہومیج Homage،
اور این ایسNS کمپنی کے یوپی ایس کا معیار قابلِ بھروسہ ہے
اور زیادہ تر ان کے یو پی ایس ہی استعمال ہو رہے ہیں۔
3 . اگر مکان کی دو منزلیں ہوں تو بہتر ہے کہ
ہر منزل پر علیحدہ یو پی ایس لگائیں۔
یوپی ایس خریدتے وقت مندرجہ ذیل چیزوں کا خیال
رکھیں۔
ا ۔ عام طور پر یو پی ایس میں بیٹری کیلئے اوور
وولتیج کٹ آف( Over voltage cut off)
تو ہوتا ہے مگر انڈر وولٹیج کٹ آف نہیں ہوتا (Under voltage cut off) یہ ضرور ہونا چاہئے۔ یہ اس لیئے ضروری ہے کہ
اگر بیٹری کے وولٹیج انتہائی کم سطح سے نیچے آجائیں تو یو پی ایس آف ہو جائے۔ اس
سےبیٹری ڈسچارج Discharge نہین ہوتی اور خراب ہونے سے بچ جاتی ہے.
2 ۔ یوپی ایس کو بیٹری سے جوڑنے والی تاریں معیاری
اور موٹی ہونی چاہئیں اگر تاریں باریک اور غیر معیاری ہوں گی تو گرم ہوجائیں گی۔
بیٹری کا انتخاب
1 -
500 اور 700 واٹ کے یوپی ایس کو
سنگل بیٹری اور 1000 واٹ کے یوپی ایس کو ڈبل بیٹری لگتی ہے۔
2 - 500 واٹ کے یوپی ایس کیلئے 125AH
سے 175AH تک
کی بیٹری کافی ہے اور 700 واٹ کیلئے 175AHسے
190AH اور
1000 وات کیلئے 125AH یا
150AH کی
دو بیٹریان کافی ہیں۔
3 ۔ بیٹری ہمیشہ نئی خریدیں۔ سیکنڈ ہینڈ یا
مرمت شدہ بیٹری ہر گز نہ لگا ئیں، کیونکہ چارجنگ کے دوران ان میں بجلی ضائع ہو تی
ہے۔
یو پی ایس کی تنصیب اور استعمال۔
1۔ یوپی ایس کو ایسی جگہ لگائیں جہاں ہوا کا
گزر ہوتا ہو کیونکہ بیٹری چارجنگ کے دوران بیٹری سے گیس خارج ہوتی ہے۔جو کہ صحت کیلئے
نقصان دہ ہے۔
2 ۔ ایسی
جگہ منتخب کریں جہاں یو پی ایس اور بیٹری
آپ کی آسان پہنچ میں ہو اور دیکھ بھال میں آسانی ہو۔
3 ۔ عام طور پر الیکٹریشن حضرات یو پی ایس کیلئے
سنگل تار کی وائرنگ کرتے ہیں جو کہ ہر گز مناسب نہیں اس کی وجو ہات عام آد می کی
سمجھ میں آنے والی نہیں ہیں لہٰذا ہمیشہ ڈبل تا ر کی وائرنگ کروائیں چاہے خرچہ جتنا بھی آئے۔ سنگل تار کی وائرنگ سے
یوپی ایس خراب ہو جاتے ہیں۔ ڈبل تا ر سے مراد یہ ہے کہ نیوٹرل اور فیز کیلئے دو علیحدہ
علیحدہ تاریں جائیں۔ یہ نہین کہ یو پی ایس
کی نیوٹرل کو ساری وائرنگ کی نیوٹرل سے جوڑ دیا جائے۔
4 ۔ بیٹری کے ٹرمینل پر کنکشن سے پہلے تھوڑی سی
گریس لگائیں پھر کنکشن اچھی طرح ٹائٹ کریں۔ اس مقصد کیلئے زیادہ تر لوگ چونڈھیاں
بھی استعمال کر رہے ہیں ان پر بھی تھوڑی سی گریس لگا دینی چاہئے تا کہ زنگ اور
سالٹ سے محفوظ رہیں۔
5 ۔ چارجنگ کے دوران بیٹری کے وولٹیج 14.2 سےزیادہ
نہیں ہونے چاہئیں ۔ جب یو پی ایس استعمال ہو رہا ہو اس وقت بیٹری کے وولٹیج 10.5
سے ہر گز نیچے نہیں آنے چاہئیں اس کا پتہ آپ کو ڈیجٹل وولٹ میٹر سے چلے گا۔ لہٰذا
اگر آپ نوٹ کریں کہ بیٹری اور چارج ہو رہی
ہے یا استعمال کے دوران وولٹیج 10.5 سے نیچے آجائیں تو پھر کسی اچھے کاریگر سے یو
پی ایس کی سیٹنگ کروالیں ورنہ بیٹری 6 سے 9 ماہ کے دوران خراسب ہو جائے گی۔
6 ۔ ڈونکی پمپ
گرائنڈر،ڈسٹ بلور، وغیرہ یو پی ایس
پر ہر گز نہ چلا ئیں کیونکہ اس قسم کی موٹریں سٹارٹنگ کے وقت 6 سے 8 گنا زیادہ کرنٹ لیتی ہیں جو کہ یو پی ایس
کیلئے خطرناک ہے۔
7۔ اگر
کہیں ایسی صورت ہو کہ یو پی ایس نئی بیٹری کے ساتھ بھی پوری ٹائمنگ نہ دے رہا ہوتو
اس بات کی تسلی کر لیں کہ واپڈا سپلائی 220 وولٹ ہی آ رہی ہے۔ اگر واپڈا سپلائی
220 وولٹ سے کم ہوتو بیٹری پوری طرح چارج نہیں ہوتی اور ٹائمنگ کم ہو جاتی ہے۔ ایسی
صورت میں وولٹ پورے کرنے کیلئے یو پی ایس کو سٹیبلائزر کے ساتھ لگائیں۔
8 ۔ پنکھے کو یو پی ایس پر زیادہ سلو نہیں
چلانا چاہئیے لہٰذا ڈمر Dimmer کوکم از کم ہاف پر رکھیں ۔
9 ۔ اگریوپی ایس پر 50٪ سے زیادہ لوڈ ڈالا جائے
اور روزانہ تقریباً 6 گھنتے استعمال کیا جائے تو بیٹری 12 سے 15 مہینے نکال جاتی ہے۔
10 ۔ بیٹری ختم ہونے کی ایک واضح نشانی تو یہ
ہے کہ یوپی ایس تھوڑی دیر چلنے کے بعد بند ہو جاتا ہے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ
چارجنگ کے دوران بیٹری گرم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں بیٹری فوراً تبدیل کرلیں کیونکہ
خراب بیٹری بجلی بہت ضائع کرتی ہے۔
11 ۔ شروع کے 3 مہینے تک بیٹری میں پانی ڈالنے
کی ضرورت پیش نہیں آتی لیکن گاہے بگاہے بیٹری کاپانی چیک کرتے رہیں جو کہ لو لیول
کے نشان سے نیچے نہیں آنا چاہئے۔ اگر ایک مرتبہ بیٹری خشک ہو جائے تو اس کی
کارکردگی بری طرح متاثر ہو جاتی ہے اور بیٹری جلد خراب ہو جاتی ہے۔
12 ۔ اگر یوپی ایس استعمال نہ ہو رہا ہو تو اسے
آف کر دیں ، کیونکہ اگر یو پی ایس پر کوئی بھی لوڈ نہ ہو تو پھر بھی بیٹری کے ایک
سے دو امپیر استعمال ہو تے رہتے ہیں۔
13 -آخر میں سب سے گذارش ہے کہ دعا کریں کہ
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو اچھے اہل دیانتدار اور خوفِ خدا رکنے والے حکمران
عطاکرے
۔ جو عوامی بہبود کے کام کریں بجلی پانی اور دوسرے مسائل کو حل کریں۔

Comments
Post a Comment