مسواک دانتوں کی بہترین حفاظت


پیلو کے درخت کی چھال چھ ماشہ اور سیاہ مرچ سات دانے پانی میں پیس لیے جائیں اور اسے چھان کر سات دن
پلایا جائے تو بواسیر جاتی رہتی ہے۔ سانپ کے کاٹے کے علاج اور گردے و مثانہ کی
پتھری کو خارج کرنے میں بھی پیلو کو استعمال کیا جاتا ہے۔کویت کے ڈاکٹروں نے بھی پیلو پر بڑی تحقیق کی ہے اس تحقیق کو کویت میں ہونے والی پہلی طب اسلامی
کانفرس میں پیش کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق منہ کی صفائی اور دانتوں ،
مسوڑھوں کی تندرستی کے لیے پیلو مسواک سے بہتر کوئی شے نہیں۔پیلو کی مسواک میں بڑی مقدار میں نمکیات موجود ہیں جو جراثیم کو ہلاک کرنے، منہ سے تعفن کو دور کرنے کے ساتھ
ساتھ مسوڑھوں اور منہ سے لعاب خارج کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ کچھ ایسے اجزا بھی پائے
جاتے ہیں جو رنگوں کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اجزا دانتوں پر لگے داغ دھبے
اور پیلاہیٹ دور کر دیتے ہیں۔ پیلو میں ریتیلے اجزا بھی ہوتے ہیں جو دانتوں کو
مانجھنے اور چمکانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ پیلو میں وٹامن کافی مقدار میں موجود
ہے جو دانتوں کو مضبوط بناتا ہےپیلو کی مسواک اور سائنسی تحقیقدور جدید کے سائنس دان بھی اس بات پر متفق ہیں کہ پیلو کے پتے، شاخیں، جڑیں اور پھل فوائد سے بھر پور
ہوتے ہیں۔ پیلو کے پتوں سے اسقراط اسکروی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا تیل جوڑوں
کے درد، جذام، بواسیر اور سوزاک میں مفید ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کو بھی اس سے ہلاک کیا
جا سکتا ہے۔ پیلو کو تلی کے امراض میں بہت مفید پایا گیا ہے۔ حیض کو جاری کرنے میں
مدد گار ہے۔ پیلو سانپ کے زہر کا تریاق بھی ہے۔ رسولیوں کو گھلانے اور سانس کی
نالیوں کی سوزش دفع میں میں بھی پیلو مفید ہے

Comments

Popular posts from this blog

کافی کے طبی فوائد

لیموں کے فوائد