کولسٹرول
کولسٹرال موم کی طرح چکنا مادہ ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں جگر میں تیار ہوتا ہے اور ہماری غذا سے حاصل
ہو کر خون میں ذرات کی شکل میں شامل ہو جاتا ہے۔ کولیسٹرال کی معمول کی مقدار ہمارے جسم کی ساخت میں شامل خلیوں کی نشوونما اور صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
کولیسٹرال مختلف ہارمونز کی تیاری اور نظام ہاضمہ کی کاردگی کا ہم جزو ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں حرارت پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ خون میں کولیسٹرال
ایک مقررہ حد تک رہے تو ہر چیز معمول کے مطابق کام کرتی ہے۔ تاہم اگر یہ مقررہ حد سے بڑھ جائے تو بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں اور جسم کے مختلف اعضا خصوصاََ دل،
دماغ اور شریانوں پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ خون میں کولیسٹرال کہاں سے آتا ہے؟خون میں کو لیسٹرال کی مقدار ، کسی حت تک ہماری غذا پر منحصر ہے۔ لیکن اس کا زیادہ تر انحصارہمارے جگر میں اس کی پیداوری صلاحیت پر منحصر ہے۔ یہ سمجھیں کہ جگر، ولیسٹرال پیدا کرنے کی فیکٹری ہے۔ کولیسٹرال خون کی نالیوں کی اندرونی تہوں میں جمع ہو جاتا ہے ، جس کی گردش میں کمی واقع ہو جاتی ہےاور خون کی نالیاں بالکل بند ہو جاتی ہیں۔کولیسڑال غذا کی کن کن اشیا میں پایا جاتا ہےکولیسٹرال جانوروں سے حاصل شدہ غذا میں پایا جاتا ہے۔ مثلاََ گوشت، انڈے کی زردی، ڈیری اشیا مثلاََ دودھ، دہی، مکھن، پنیر، اس کے علاوہ گردہ، کلیجی ، مغز وغیرہ میں کولیسڑال بہت
زیادہ ہوتا ہے۔مرغی اور مچھلی کے گوشت میں کولیسٹرال کی مقدار نسبتاََ کم ہوتی ہے۔ نباتات سے حاصل کردہ غذا مثلاََ پھل، سبزیاں ، دالیں ، میوہ جات میں بھی کولیسٹرال
کافی کم ہوتا ہے۔چکنائی کی کیا اقسام ہیں؟عمومی طور پر دو قسم کی چکنائیاں ہماری غذا کا حصہ بنتی ہیں۔سیر شدہ چکنائی یا سٹرائٹیڈ یہ گوشت ، مکھن ، دودھ ، پنیر بلائی ، پام آئل اور ناریل کے تیل میں بکثرت پائی جاتی ہےچونکہ ان چیزوں میں کولیسٹراک کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے اسلیے یہ دل کے امراض میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔ غیر سیر شدہ یا ان سٹرایئیڈ چکنائی۔ یہ چکنائی زیادہ تر نباتات سے حاصل ہونے والی اشیا مثلاََ سورجمکھی کا تیل، سویابین، مکئی، زیتون یا کنوالا کا تیل اور مچھلی کا تیل سے حاصل ہوتی ہے۔اور خون میں کولیسڑال کی زیاتی کا باعث نہیں بنتی ۔کولیسڑال کی کتنی اقسام ہیں؟ایچ ڈی ایل کولیسٹرال ایل ڈی ایل کولیسٹرال ٹرائی گلیسرائیڈز کویسٹرال کے ذرات بذات خود خون میں گردش نہیں کرتے بلکہ وہ ایک خاص پروٹین کے ساتھ چلتے ہیں۔ اس پروٹینکو لیپوپروٹین کہا جاتا ہے۔ لیپو پروٹین کی مثال ایک گاڑی کی ہے جو سڑک پر چل رہی ہے اور اس پر سامان لدا ہو ا ہے اور یہ سامان کولیسڑال کی مختلف اقسام کا ہے جو
خون کے ذریعے مختلف اعضا تک پہنچتا ہے۔ایچ ڈی ایل کولیسٹرالایچ ڈی ایل کولیسٹرال کو اچھا کولیسٹرال سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس لیے یہ کولیسڑال کو خون کی نالیوں اور پٹھوں سے جگر کی طرف لے جاتا ہے۔ اور چونکہ جگر ایک فیکٹری کی طرح ہے تو یہ کولیسٹرال وہاں پہنچ کر بھسم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح خون میں کولیسٹرال کی مقدار مقررہ حد میں رکھنے میں مدد دیتا ہےاور اس سے دل کی حفاظت ہوتی ہے۔ایل ڈی ایل کولیسٹرالایل ڈی ایل کولیسٹرال کو برا سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ قسم ہے جو خون کی نالیوں کی اندرونی تہوں میں جم کر ان کو موٹا کر کے خون کی گردش میں کمی لاتا ہے اور دل اور شریانوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ٹرائی گلیسرائیڈز ٹرائی گلیسرائیڈز یہوہ چکنائی ہے جو ذرات کی شکل میں اس وقت جمع ہوتی ہے جب جسم میں ضرورت سے زیادہ کلوریز بہم پہنچائی جائیں۔ اضافی توانی کی ضرورت پڑنے کی صورت میں جیسے ورزش یا جسمانی کام وغیرہ میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم خون میں ان کی زیادتی لگاتار رہنے کی صورت میں یہ دل کے امراض کا باعث بنتی ہے۔ذیابطیس کے مرض میں اس کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ خون میں کولیسٹرال کی مقررہ حد اور ہائی کولیسٹرال کی مقدار کیا ہے؟ٹوٹل کولیسٹرال کی نارمل مقدار 180ملی گرام یا اس سے کم ہے ہائی کولیسٹرال کی مقدار 200ملی گرام یا اس سے زیادہ ہے۔ایچ ڈی ایل کولیسٹرال کی مقدار 40سے60نارمل ہے۔ 60ملی گرام سے زائد کو دل کی حفاظت کے لیے بہت اچھا سمجھا جاتا ہے۔ایل ڈی ایل کولیسٹرال کی نارمل مقدار 100سے 130 گرام تک ہے اور 130سے190 تک خطر ناک ہے جب کہ 200سے اوپر انتہائی خطرہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اگر خدانخواستہ دل کی تکلیف موجود ہو تو ایل ڈیل ایل کی مقدار 70 ملی گرام سے بھی کم ہونی چاہیں۔ٹرائی گلیسرائیڈز کی نارمل مقدار 150گرام ہے250سے 450 گرام خطرناک اور450سے اوپر انتہائی خظرناک سمجھا جاتا ہے۔خون میں کولیسٹرال کے بڑھنے کی وجوہاتموروثی اثرات بہت اہمیت کے حامل ہیں موروثی اثرات کے تحت بچوں اور نوجوانوں میں بھی کولیسٹرال کی زیادتی پائی جاتی ہے۔ غذا میں چکنائی کی مقدار کی زیادتی بھی کولیسٹرال کو بڑھا دیتی ہے۔ زردوی والا انڈا، مرغن غذائیں، تلی ہوئی اشیا، ناریل، مغز ، گردہ ، کلیجی، نہاری، پائے، گائے کا گوشت ، شراب نوشی یہ اشیا کولیسٹرال کو بڑھا دیتی ہیں۔کچھ امراض بھی کولیسڑال کی مقدار بڑھا دیتے ہیں جیسے تھائی رائیڈکا مرض ، گردوں کا مرض ، موٹاپا، شوگر کا مرض اس کے علاوہ ورزش کی کمی اور سگریٹ نوشی بھی کولیسٹرال بڑھا تی ہیں۔ہائی کولیسٹرال کی علاماتعام طور پر خون میں ہائی کولیسٹرال کی کوئی علامت نہیں ہوتیں اس کا پتہ صرف خون میں کولیسٹرال کی مقدار کے ٹیسٹ کروا کر ہی ہو سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ خالی پیٹ خون کے نمونہ سے ہوتا ہے جس کو لیپڈ پروفائل ٹیسٹ کہتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں خون میں ٹوٹل کولیسٹرال ، ایل ڈی ایل، ایچ ڈی ایل اور ٹرائی گلیسرایئڈز کو ناپا جاتا ہے۔ہائی کولیسٹرال کے نقصاناتہائی کولیسٹرال کی وجہ سے دماغ میں خون جم سکتا ہے۔ فالج کا اثر ہو جاتا ہے۔ وقتی بے ہوشی ہو سکتی ہے۔دل کا درد، دل کا دورہ اور ہارٹ فیلیر جیسے موذی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ٹانگوں میں شدید درد، گردے اور بڑی آنتوں میں بھی شدید درد ہو سکتا ہےہائی کولیسٹرال کے نقصانات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟آسان نسخہ پڑھنے اور ڈاون لوڈ کرنے کے لیے لنک شیئر کر رہا ہوں۔
Comments
Post a Comment