چوبیس گھنٹے کا فاقہ دل اورذیابیطس کا خطرہ کم کرسکتا ہے


حال ہی میں امریکا میں ہونے والی ایک ریسرچ کے نتیجے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اگر باقاعدگی اور تواتر کے ساتھ مہینے میں کسی ایک دن چوبیس
گھنٹے کامکمل فاقہ کرلیا جائے تو اس سے دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذیابیطس کا
خطرہ بھی کم ہوسکتا ہے۔اس اسٹڈی کے ضمن میں ڈاکٹروں نے امریکی ریاست اوتا کے دوسو
سے زیادہ مکینوں کی صحت کا مطالعہ بھی کیا اور ان کی عادات کو بھی جانچا۔ اس ریاست
کے رہنے والوں کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ یہ ہر مہینے میں ایک دن مکمل فاقہ کرتے
ہیں اورکھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ماہرین نے ان افراد کے ایکسریز اسکیننگ کو
چیک کیا تو پتا چلا کہ جن لوگوں نے مہینے میں ایک دن کا فاقہ نہیں کیا تھا، ان کی
شریانیں فاقہ کرنے والوں کے مقابلے میں لگ بھگ 75فی صد تنگ پائی گئیں۔ دوسری جانب
تنگ یا پھنسی ہوئی شریانوں نے 63فی صد ان لوگوں کو متاثر کیا جن کا یہ کہنا تھا کہ
وہ اکثر کھانے کو نظر انداز کردیتے ہیں۔امریکن کالج آف کارڈیا لوجی کی کانفرنس میں بھی یہ بات کہی
گئی کہ فاسٹنگ یا فاقہ کشی کے یہ نتیجے میں ذیابیطس کی شکایات کی تعداد میں لگ بھگ
نصف کمی ہوئی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ نتائج صرف ان لوگوں کے نہیں
تھے جن کا لائف اسٹائل یا طرز زندگی صحت مندانہ تھا اور فاقہ کشی بھی کرتے تھے، اس
کے لیے ریسرچ کرنے والے ماہرین نے ان لوگوں پر دوسری اسٹڈی کرائی جو ریگولر فاسٹر
نہیں تھے یعنی جو پابندی سے فاقہ کشی نہیں کرتے تھے۔اس کے لیے رضا کاروں کا اہتمام کیا گیا جنھوں نے چوبیس
گھنٹوں تک سوائے پانی کے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا۔ اس دوران انھیں ہیلتھ چیکس کے
ایک سلسلے سے گزرنا پڑا۔ انھیں اس حال میں بھی مانیٹر کیا گیا جب انھوں نے نارمل
انداز سے کھایا پیا۔ اس ٹیسٹ سے انکشاف ہوا کہ فاسٹنگ نے انسان کے گروتھ ہارمون
میں تحریک یا شدت پیدا کی۔ واضح رہے کہ گروتھ ہارمون انسان کے میٹابولزم (غذا کے
جزوبدن بننے کے عمل) کی رفتار کو تیز کرکے چکنائی یا چربی کو جلا دیتا ہے۔ یہ
سطحیں خواتین میں 13گنا اور مردوں میں بیس گنا بڑھ گئیں۔ یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں
کہ چکنائی میں کمی سے ذیابیطس کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے اور دل کی بیماریوں کے
خطرے میں بھی کمی ہوجاتی ہے ۔<o:p></o:p></span></p>

فاسٹنگ یا فاقہ کشی کولیسٹر ول کی سطح میں اضافے کا سبب
بنی، لیکن جیسے ہی فاقہ ختم ہوا تو یہ سطح ایک بار پھر نارمل پر آگئی۔ لیکن ماہرین
اور ڈاکٹروں نے زور دیا ہے کہ اس سلسلے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہی
مریضوں کو فاقہ کشی یا فاسٹنگ کی تجویز دی جاسکتی ہے، اس سے پہلے ایسا کوئی مشورہ
نہیں دیا جانا چاہیے۔دوسری جانب ماہر غذائیات کا کہنا ہے کہ میں فاسٹنگ کا آغاز
کرنے کے ضمن میں کسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کروں گی، کیوں کہ یہ جسم انسانی کی بالکل
غیر واضح یا مبہم نوعیت ہے جس کے تحت جسم ردعمل ظاہر کرتا ہے اور یہ نوعیت ابھی تک
نامعلوم ہے ،یعنی اس ردعمل کے بارے میں ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چناں چہ
ابھی ہمیں مزید ریسرچ کرنی ہوگی ۔اس کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جاسکے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

کافی کے طبی فوائد

لیموں کے فوائد